جو مرد عورت کو جنسی طور پر مطمئن نہیں کر پاتا وہ اکثر

ان لوگوں کے لئے بہت کچھ نہ کرے جو آپ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں تیری محبت سے بھر رکھی ہے میں نے اپنے دل کی تجوری کوہ نور لا کر بھی دے تو میں سودا نہ کرو  میں اسے کھونے کے ڈر سے اکثر باتوں کا ادھورا جواب سن کر خاموش ہو جاتی ہیں کیونکہ اپنی جان بھی ہو جائے تو کچھ بات کا جواب نہیں ملتا اور اگر مل بھی جائے تو نہ مکمل

سیاہ بختی نے مجھے اس قدر خود میں لپیٹ لیا ہے کہ اگر دنیا میں صرف دو لوگ رہ جائیں ایک میں اور ایک تم تب بھی تم مجھے نہیں مل سکتے ہم تو کرائے ہوئے ستائے ہوئے لوگ ہیں ہم جتنا بھی بن سنور لیں ماتھے پر سیاہ ہوتی رہتی ہے اور ہر ہے احسانوں کا بدلہ جان دے کر تو تارا جا سکتا ہے لیکن بیٹی دے کر نہیں نہ جانے کے بعد لوگ کب سمجھیں گے

افسوس ہم لوگ جسے غریب سمجھ کر شادی میں نہیں بلاتے وہ میت میں سب سے پہلے پہنچ جاتا ہے اپنی سوچ کا زاویہ درست اور اس کو بڑا رکھیں اور پھر مجھے کوئی دکھ دشمنوں سے نہیں ملا سارے دکھ انہیں سے ملے جو کہتے تھے کہ میں تم سے عزیز کوئی نہیں کہتی ہیں مرد کے دکھ بے زبان ہوتے ہیں پتر تو چار دوستوں میں بیٹھ کر رو بھی نہیں سکتا اپنے درد کا بھی پردہ رکھتا ہے

اور تم نے ایک حد تک ضرور ہونا اچھی بات ہے ایسا غرور جو اسے راہ چلتے ہر ایرے غیرے کو دیکھنے سے باز رکھے جو مرد عورت کو جنسی طور پر مطمئن نہیں کر پاتا وہ اکثر عورت سے لڑنے لگ جاتا ہے جب کسی اپنے کا لہجہ آپ کے لئے اجنبی ہو جائیں اس کا نمبر نہیں پاتا اور نہ ہی یہ درد بھول جاتا ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *