8 ماہ کی حاملہ بھی تھیں ۔۔ پاکستانی فوج کی وہ خواتین افسران جنہوں نے شہادت کا رتبہ پایا

پاکستانی فوجی جوان ہمہ وقت ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے ہیں۔

لیفٹینیٹ ڈاکٹر ماہ نور فرزند:

پاکستان ائیر فورس کی جوان آفیسر لیفٹینیٹ ڈاکٹر ماہ نور فرزند بھی کورونا وائرس کے باعث ہفتہ کے روز انتقال کر گئی تھیں۔ ڈاکٹر ماہ نور پاکستان ائیر فورس کی نوجوان پائلٹ آفیسر تھیں، جبکہ ان کی صلاحیتوں کی بنا پر انہیں بے حد کامیابیاں ملی تھیں۔

ڈاکٹر ماہ نور اور ان کے والد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد قرنطینہ میں چلے گئے تھے۔ لیکن ماہ نورفرزند 8 ماہ کی حاملہ تھیں۔ جبکہ والد بھی اس وقت آئی سی یو میں ہیں۔

ڈاکٹر ماہ نور بھی میڈیکل فیلڈ کے ان جانبازوں کے ساتھ شامل تھیں جو کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہےتھے اور اپنی جان کا نظرانہ پیش کر دیا تھا۔ ڈاکٹر ماہ نور رواں ہفتے اپنے 8 ماہ کے بچے سمیت شہید ہو گئی تھیں۔

کرونا وائرس کے دور میں جہاں دنیا گھر پر تھی وہیں 8 ماہ کی حاملہ فوجی افسر نے گھر بیٹھنے کے بجائے ملک کی خاطر باہر نکلیں اور آرمی اسپتال میں ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔ یہاں تک کہ انہیں بھی کرونا وائرس ہو گیا۔

قوم کی اس بہادر بیٹی نے ہمت نہیں ہاری، اپنی جان کا نظرانہ دے دیا مگر ملک کی خاطر ہمت نہیں ہاری۔

مریم مختار:

شہید مریم مختار کا شمار ان جانباز افسران میں ہوتا ہے جو کہ شروعات سے ہی کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتی تھیں، ملک کے لیے کچھ کرنے کی جستجو، والدین کے لیے فخر کا باعث بننے والی مریم نے ہمیشہ ہی اپنے عمل سے سب کو حیرت میں مبتلا کیا۔

پاکستان ائیر فورس کی جانباز آفیسر، مریم مختار جنہوں نے خواتین کے لیے ائیر فورس پائلٹس کئی راہیں کھول دیں۔ مریم مختار دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا عزم رکھتی تھیں۔ اسی حوالے سے وہ فلائنگ آفیسر بھی تھی اور مشقوں میں حصہ کیا کرتی تھیں۔

مریم مختار کا شمار ان با صلاحیت آفیسرز میں ہوتا تھا جو اپنا فرض دلیری سے ادا کرتے تھے۔

واضح رہے 2015 میں مریم مختار تربیتی جہاز کریش کر جانے کے باعث شہید ہو گئی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.