انسان کی موت کے بعد فورا دفنا دینا چاہیے کیونکہ ۔۔ مردے سے متعلق سائنس نے کون سا نیا انکشاف کر دیا؟

سائنس انسان کو حیران کرنے اور اپنی جانب متوجہ کرنا کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے، بلکہ اسلام کی جانب سے متعین کی گئی کئی حدود پر بھی وضاحت کچھ اس طرح دی، کہ قرآن میں کیے گئے اشاروں کی تصدیق کر دی۔

اسلام کی اس بات کی بھی سائنس نے تصدیق کی ہے مردے کو جتنا جلدی ہو سکے دفنا دینا چاہیے، اسلام اس حوالے سے نہ صرف نہ صرف واضح کرتا ہے کہ موت کے بعد انسان کا جسم خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے، جو کہ دیگر لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ خود مردے کے لیے بھی تکلیف دہ اور حرمت کے مترادف ہے۔

سائنس نے مردے کے جسم سے متعلق کئی انکشافات کیے ہیں، FutureLearn نامی ویب سائٹ پر اس حوالے سے باقاعدہ طور پر سائنس کے انکشافات کو بتایا گیا ہے۔

موت کے بعد انسان کا جسم کئی حیاتیاتی تبدیلیوں سے گزرتا ہے، جسے عام زبان میں انسانی جسم کا گلنا کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دو اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ جسم میں حیاتیاتی افعال کا خاتمہ ہونا شروع ہو جاتا ہے، یعنی جسم اندرونی طور پر ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

جبکہ دوسری اہم تبدیلی یہ ہے کہ جسم میں جراثیم کی افزائش اور پھر پھیلاؤ شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی انسان کا جسم جسے وہ بہت خوبصورت اور صاف سمجھتا ہے، مرنے کے بعد ایسا ہو جاتا ہے، کہ سب جلد از جلد اسے مٹی کے سپرد کرنے پر زور دیتے ہیں۔

سائنس کے مطابق انسانی جسم میں موت کے بعد تبدیلی کے 4 فیز ہوتے ہیں۔ اس فیز کو Hypostasis کا نام دیا جاتا ہے۔ اس فیز میں جو اہم تبدیلی رونما ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ موت کے ایک گھنٹے سے لے کر چند گھٹوں تک انسانی جسم میں موجود خون کو نالیاں خراب ہونا شروع ہو جاتی ہیں، یہ نالیاں پورے جسم میں خون کی روانی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

سائنس کے مطابق دوسرا فیز نیوٹن کے لاء پر انحصار کر سکتا ہے، یعنی موت کے بعد مردے کا جسم میں موجود ٹھنڈک جسم کے آس پاس موجود درجہ حرارت پر انحصار کرتی ہے۔ یہ فیز انتہائی اہم ہوتا ہے، کیونکہ اگر سازگار درجہ حرارت میسر ہو جائے تو انسانی جسم کو کئی گھنٹوں کے لیے فریز کیا جا سکتا ہے۔ جیسے کہ عام طور پر سرد خانے کی شکل میں یہ جگہ موجود ہے۔ اس فیز کو Algor Mortis کا نام دیا جاتا ہے۔ اگلہ مرحلہ زندہ انسان کو خوفزدہ تو کر دیتا ہے، اس فیز کو Rigor Mortis کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اسمیں انسانی جسم سخت ہونا شروع ہو جاتا ہے اور مردے اکڑ جاتا ہے۔

موت کے تین گھنٹے بعد تک مردہ نرم ہوتا ہے، اور جسم میں گرمی بھی موجود ہوتی ہے۔ لیکن 3 سے 8 گھنٹے کے بعد جسم میں سختی آنا شروع ہو جاتی ہے، جو کہ عزیز و اقارب بھی محسوس کر لیتے ہیں۔ اور پھر اگلے 8 سے 36 گھنٹوں کے اندر سختی کے ساتھ ساتھ مردے کا جسمانی درجہ حرارت بھی گر جاتا ہے اور مردہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم میں موت کے پٹھوں کے ریشوں میں کیمیکل تبدیلیاں وقع پزیر ہو رہی ہوتی ہیں۔ لیکن پھر 36 گھنٹوں بعد مردے میں ہونے والی کیمیکل تبدیلیوں سے بننے والے کیمیکل بانڈز ٹوٹ جاتے ہیں اور سختی بھی ختم ہو جاتی ہے، یعنی مردہ گلنا شروع ہو جاتا ہے۔

اگلہ مرحلہ قبر کے اندر کا ہوتا ہے جسے Putrefaction کا نام دیا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں مردے کے جسم میں 2 سے 3 ہفتوں کے اندر ہی انسانی ٹشوز میں جراثیم کی افزائش ہو جاتی ہے۔

جبکہ علامتی طور پر مردے کی کمر کی جلد کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے، جلد کی سطحی رگیں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں، خطرناک گیسوں کی افزائش ہوتی ہے، جس سے پیٹ پھولتا جاتا ہے۔ جبکہ ایک اور علامت یہ بھی ہے کہ جسم کے مختلف سوراخوں سے خون نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.