تنہائی اور اکیلے پن میں ذہنی صحت اور ڈپریشن سے بچنے کے لئے گھر پر رہتے ہوئے کیا کرنا چاہیے؟ ڈپریشن موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

تنہائی اور اکیلا پن انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے، ایسے میں بعض اوقات یہ اکیلا پن اتنا تکلیف دہ ہو جاتا ہے کہ انسان موت کے منہ میں بھی چلا جاتا ہے، ایسے میں ایسا کیا کریں کہ یہ تنہائی آپ کو ڈپریشن میں مبتلا نہ کردے۔ اسکے لئے ہم یہاں کچھ وہ چیزیں یا طریقے بتارہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنی ذہنی صحت کو بحال رکھ سکتے ہیں۔

اس وقت دنیا میں نئے نئے وائرس متعارف ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے کٹتے چلے جا رہے ہیں اور ہم سب ایک عجیب و غریب طرز زندگی کی عادت اپنا رہے ہیں۔ دوسرے نوجوان نسل کے پاس اپنے بڑوں کے لئے ٹائم نہیں جس کے باعث گھر کے بڑے ڈپریشن کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جوان کی ذہنی تندرستی کے لئے خطرہ ہوسکتی ہے۔

ویسے تو گھر میں سارا دن سلیپنگ سوٹ میں رہنا بڑا پوسکون ہوتا ہے لیکن ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ خود بھی اور اگر کوئی اور اس تنہائی یا اکیلے پن کا شکار ہے تو اس کو بھی اس بات پر اکسائیں کہ اپنے روز مرہ کے معمولات کو برقرار رکھیں ۔ اپنے دن کا آغاز تقریباً اسی وقت کرنے کی کوشش کریں جب آپ عام طور پرکیا کرتے ہیں اور ہر دن چہل قدمی کرنے، تفریح کرنے اور سماجی میل جول اور غور و فکر کے لئے ایک وقت مقرر کریں۔

متحرک رہنا ذہنی دباؤ کم کرتا ہے،انرجی لیول بڑھاتا ہے، ہمیں زیادہ چوکس بنا دیتا ہے اور ہمیں بہتر نیند حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اپنے دن کے اوقات میں جسمانی نقل و حرکت اور مصروفیات کو شامل کرنے کے مختلف طریقے تلاش کریں اور کچھ ایسے کام دریافت کریں جو آپ کے لئے دلچسپ ثابت ہوں۔ یہاں تک کہ گھر پر رہتے ہوئے بھی اپنے جسم کو متحرک رکھنے اور ورزش کرنے کے بہت سارے طریقے موجود ہوں گے۔ اس کے لئے انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا سے مدد لی جا سکتی ہے۔

آرام کرنا اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے اور منفی احساسات کو ہلکا کرنے میں کچھ یوگا کی ورزشیں مدد فراہم کرسکتی ہیں۔ مراقبہ کرنے اور سانس لینے کی چند ایک مشقیں آزمائیں تاکہ پتا چلے کہ آپ کو کس چیز سے مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر بعض اوقات ہم اتنے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ سکون کا احساس کیا ہوتا ہے۔ جب بھی ایسا ہو تو پٹھوں کو بتدریج ڈھیلا چھوڑ دینے کا عمل آپ کو یہ جاننا سکھاتا ہے کہ پرسکون کس طرح ہونا ہے۔

خاص طور پر جب آپ گھر پر اکیلے ہی رہتے ہوں تو آپ کو تنہائی کا احساس ہو سکتا ہے۔ اپنے دوستوں، کنبے اور دیگر افراد کے ساتھ رابطے میں رہنے کے مختلف طریقے تلاش کریں تاکہ آپ ان کے ساتھ زیادہ قریبی تعلق محسوس کرسکیں، خواہ وہ بذریعہ میل، فون، سوشل میڈیا یا بذریعہ ویڈیو کال ہو۔ یہ عمل ویڈیو پر چائے کا ایک کپ شیئر کرنے سے لیکر ایک ساتھ آن لائن گیم کھیلنے یا محض ایک میسیج بھیجنے تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

مختلف مسائل پر سوچتے رہنے کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو نیند میں زیادہ دشواری کا سامنا ہے۔ اپنی نیند کو بہتر بنانے کے لئے آپ بہت کچھ کرسکتے/سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہو سکے تو ویک اینڈ پر بھی ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور ہر روز ایک ہی وقت پر بیدار ہونے کا معمول بنائیں، اور جہاں ممکن ہو سکےصبح کے وقت کھلی ہوا میں بیٹھنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی جسمانی گھڑی کو منظم ہونے میں مدد ملتی ہے جو آپ کو بہتر نیند لینے میں مدد دے سکتی ہے۔ بستر پر جانے کے وقت سے ایک گھنٹہ قبل اپنے فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر یا ٹی وی کو استعمال کرنا بند کر دیں۔ کیونکہ اس کی نیلی روشنی آپ کی نیند کو ڈسٹرب کر سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *