متحدہ عرب امارات کے نئے قانون میں شادی کے بغیر بچے کی پیدائش اور غیر ازدواجی تعلقات سے متعلق وضاحت جاری

عرب امارات کی جانب سے شادی کے بغیر بچے کی پیدائش ،عصمت دری اور غیر ازدواجی معاملات سے متعلق نئے قانون کی وضاحت جاری کی ہے ۔ اس سے پہلے قانون میں عصمت دری کیلئے سزا صرف موت تھی جبکہ نیا قانون عورت کی عزت پامال کرنے پرعمر قید کی سزا سمیت چار دیگر شرائط کیلئے موت کو الگ کرتا ہے ۔متحدہ عرب امارت کے

نئے تعزیرات کے قانون نے رضامندی پر مبنی تعلقات کو ازدواجی بندھن سے خارج کر دیا‘ غیر شادی شدہ والدین کے لیے دفعات متعارف کرائیں اور عصمت دری کے جرائم کی تشریح کو وسیع کیا۔عرب امارات کے میڈیا کے مطابق نئے تعزیرات کے قانون میں شادی کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کی پرورش کے لیے ایک نئی شق متعارف کرائی گئی ہے، یہ فراہم کرتا ہے کہ جو کوئی بھی ایسی عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا ہے جس کی عمر 18 سال پوری ہو چکی ہو، جس کے نتیجے میں بچہ پیدا ہو، اسے کم از کم دو سال قید کی سزا ہو گی تاہم اگر وہ شادی کرتے ہیں‘ مشترکہ یا علیحدہ طور پر بچے کی ولدیت کو تسلیم کرتے ہیں تو اس صورت میں جوڑے کو مجرمانہ الزامات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات قائم کرنے کو جرائم کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یو اے ای حکومت نے اصلاحات کرتے ہوئے تقریباً چالیس قوانین میں تبدیلیاں کر دی ہیں۔ نئے قوانین کا اطلاق آئندہ سال یکم جنوری سے ہو جائے گا۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ کسی بھی خلیجی ریاست کی تاریخ کی سب سے بڑی قانونی اصلاحات ہیں۔یو اے ای حکومت کی جانب سے جن قوانین میں تبدیلیاں یا ترامیم کی گئی ہیں شراب نوشی، شادی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے اور غیرت کے نام پر قتل سے متعلق قوانین میں نرمی کی ہے۔ دیگر قوانین کی تفصیلات بھی آہستہ آہستہ سامنے لائی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنا پہلے ایک جرم تھا تاہم اب اسے اس فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ایسے جوڑوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر شادی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے سے پیدا ہونے والی اولاد کو وراثت میں قانونی حق دینے کیلئے انھیں شادی کرنا لازمی ہوگا۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگر والدین بچے کو قبول نہیں کرتے اور ان کی دیکھ بھال سے بھاگتے ہیں تو ان کیخلاف یو اے ای قانون کے تحت فوجداری مقدمہ قائم کیا جائے گا جس میں دو سال کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔امارات میں شادی سے قبل خاتون کے حاملہ ہونے کا ایک واقعہ 2017ء میں سامنے آٰیا تھا۔ جنوبی افریقا کے باشندے اور یوکرین سے تعلق رکھنے والی خاتون نے جنسی تعلقات استوار کئے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.