ایک جادوئی بوٹی کا کمال جسم کے غیر ضروری بالوں کا مکمل خاتمہ

پر آئی برو، پلکوں اور سرکے بالوں کے علاوہ دیگر کوئی بھی بال یا کسی بھی جگہ بال ہوں

۔ تو وہ اضافی لگتے ہیں۔ خواتین ان کوہٹانےکے لیے کبھی ویکس تو کبھی ریزر یا کوئی رمیڈی استعمال کرتی نظر آتی ہیں۔ آپ کو مختلف قسم کے گھریلوٹوٹکے آزما چکے ہیں۔ جس سے آپ اپنے غیرضروری بالوں کو ہٹاتے ہیں۔ لیکن آج آپ کو ایک ایسی جڑی بوٹی کے بارے میں بتائیں گے۔ جس کے استعمال سے آپ اپنے غیر ضروری بالوں سے پانچ منٹوں میں چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ اس جڑی بوٹی کانام یعنی ” نیازبو” کے بیج اور پیاز جو روزمرہ ہمارے کھانوںمیں استعمال ہوتی رہتی ہے۔ ان دونوں کے میلاپ سے ایسی بہترین ہئیر رمیوول رمیڈی تیار ہوگی۔ جس سے آپ بالکل بازاری ویکس کے جیسے اپنے چہرے اور جسم کے بالوں سے جو ویکس کرتے ہیں۔ ویسے رزلٹ نظر آئیں گے۔ اس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہیں۔

لہٰذا ہر ماہ میں اسی ٹپس آپ بالوں کی صفائی کرنےسے ، آپ کی جلد بھی چمکدار ہوجائے گی۔ اور بالوں کی نشوونمابھی رک جائےگی۔ کہ آپ نے کیا کرنا ہے؟ دو پیاز کو اچھی طرح سے کد و کش کرلینا ہے۔ اس کا پانی نکال لیں۔ اور ایک پیالی میں پانی جمع کرلینا ہے۔ اب آپ نے کیا کرنا ہے؟ کہ ” نیاز بو” کے بیجوں کو مکسچر میں ڈالیں۔ اور اتنا باریک پاؤڈر کرلیں۔ کہ یہ آسانی سے پیاز کے رس میں گھل جائے۔ پھر آپ نے کیا کرنا ہے؟ پیاز کے رس میں “نیازبو” کے بیجوں کا جو پاؤڈر تھا۔ اس کو مکس کرنا ہے۔ اور اس کا ایک لیپ تیار کر لینا ہے۔ اس لیپ کو آپ نے آپ کے جسم کے ہراس حصے پر لگانا ہے۔جہاں آپ کو اضافی بالوں کا مسئلہ ہے۔ پندرہ منٹ آپ نے اس پیسٹ کو لگا رہنے دیں۔ اور آپ غور کریں گے۔ آپ کو یہ لیپ جلدی سے سخت محسوس ہونا شروع ہوجائےگی۔

جیسے جیسے یہ خشک ہونا شروع ہوگی۔ا ور اگر نہیں ہوتی تو آپ مزید اس کو بیس منٹ لگا رہنے دیں۔ اور جونہی آپ کو جلد اپنی کھچی کھچی محسوس ہونے لگے ۔ توآپ اپنے بالوں کو مخالف رخ میں اتارنا شروع کردیں۔ یعنی آپ نے اس لیپ کو رگڑنا شروع کر نا ہے۔ا ور بالوں کے مخالف سمت کی طرف آپ نے اس کو رگڑنا ہے۔ اس سے آپ کے بال اترنا شروع ہوجائیں گے۔ اس سے آپ کے چھوٹے بڑے اضافی بال ہیں۔ وہ بالکل صاف ہوجائیں گے۔ اور آپ کی جلد نرم وملائم ہوجائےگی۔ اس کو استعمال کرکے آپ اپنے غیرضروری بالوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ اور ویکس اور دوسری رمیڈیز سے جان چھڑا سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.