حمل کے دوران عورتیں یہ کام ہر گز نہ کر یں۔

ہر حاملہ عورت کو، چاہے وہ شادی شدہ اور پہلے سے اولاد والی ہو یا بہت چھوٹی، تنہا یا پہلی بار حاملہ ہوئی ہو، اپنے خاندان اور برادری کی محبت اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔اسے صحت کی مناسب نگہداشت اور موزوں غذا کی ضرورت بھی ہوتی ہے یقینی بنائیں کہ اسے کافی آرام ملے۔ حاملہ عورت کے لیے بہت دیر تک بیٹھنا یا کھڑے ہونا مناسب نہیں ہوتا۔

جب اسے نیند آئے یا تھکی ہوئی ہو تو چند منٹ لیٹ کر آرام کرسکے۔ حاملہ عورت کے لیے دن میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد آرام کرنا اچھا ہوتا ہے۔ یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ بچہ پیٹ میں مناسب طور پر پروان چڑھ رہا ہے اور ماں صحت مند ہے، بچے کی پیدائش سے پہلے کے معائنے ضروری ہیں۔ زچگی سے پہلے اچھی نگہداشت کے لیے کچھ تربیت درکار ہوتی ہے لیکن اسے سیکھنا مشکل نہیں ہے۔

اس میں بہت زیادہ آلات وغیرہ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔حاملہ عورت کو کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم تین چار معائنے کرائے، ایک اس وقت ہونا چاہیے جب وہ یہ سمجھے کہ حاملہ ہوگئی ہے، اگلا تقریباً چھ ماہ بعد اور پھر ولادت کے متوقع مہینے کے دوران مزید دو معائنے۔ ہزاروں سال سے جب ڈاکٹر اور اسپتال بھی نہیں ہوتے تھے،

مڈوائفیں محفوظ مامتا کی محافظوں کا کردار ادا کررہی ہیں۔ یہ بات آج بھی درست ہے۔ ہم ’مڈوائف ‘ کالفظ کسی بھی ایسے فرد کے لیے استعمال کرتے ہیںجسے عورتوں کو زچگی سے پہلے اور زچگی کے موقعے کے لیے مکمل نگہداشت فراہم کرنے کی تربیت دی گئی ہو۔ بعض مڈوائفوں کو دوسری مڈوائفیں تربیت دیتی ہیں، کچھ اسکول جاتی ہیں اور کوئی سرٹیفکیٹ یا ڈپلوما حاصل کرتی ہیں۔

کچھ مڈوائفیں یہ دونوں کام کرتی ہیں۔مڈوائفیں عورتوں کی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ:غریب بستیوں میں صرف وہی صحت کارکن ہوتی ہیں یا عورتیں انہی کے خرچ کی متحمل ہوسکتی ہیں۔وہ عموماً ان ہی برادریوں یا علاقوں میں رہتی ہیں جن میں خدمات انجام دیتی ہیں اس لیے خاندان ان سے واقف ہوتے ہیں اور ان پر اعتبار کرتے ہیں۔

وہ عموماً ڈاکٹر یا دیگر صحت کارکن سے زیادہ وقت عورتوں کے ساتھ گزارتی ہیں جس سے انہیں خطرے کی علامات محسوس کرنے اور عورت کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔وہ عموماً عورتیں ہوتی ہیں اور بیشتر عورتیں کسی عورت سے بات کرنا اور معائنہ کروانا زیادہ پسندکرتی ہیں۔وہ عورتوں کو زچگی میں اس طرح مدد دیتی ہیں جس میں ان کی خواہشات اور روایات کا احترام شامل ہوتا ہے۔

غریب کنبوںمیں بعض اوقات ضروری مقدار میں غذا نہیں ہوتی یا جو غذا ہوتی ہے وہ مردوں اور عورتوں میں یکساں طور پر تقسیم نہیں کی جاتی۔ بعض اوقات روایات یا عقائد کی وجہ سے عورتوں کو ان کی ضرورت کے مطابق غذا نہیں دی جاتی۔ عورتوں کی صحت و ضروریات کو کیسے ترجیح دی جائے،اس بارے میں جاننے کے لیے دیکھیں تیسرا باب: صنف اور صحت۔ .

برادریوں کے لیے صنفی عدم مساوات اور غربت جیسے مسائل کا حل ڈھونڈنا ممکن ہے۔ ہر ایک کو صحت سے بھرپور زندگی گزارنے کے قابل بنانے کی خاطر لوگوں کو تبدیلیاں لانے کے لیے کیسے متحرک کیا جائے، اس بارے میں جاننے کے لیے دیکھیں دوسرا باب: خواتین کی صحت کے لیے برادریوں کا منظم ہونا ۔

شیئر کریں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.