دنوں میں امیر ہونے کا آسان ترین نسخہ

بعض چیزیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس سے میرا مال ضائع ہو جائے گا اتفاق سے شیخ قصہ بیان کررہے تھے کہ باپ کے بیٹے تھے تین چار ایک ہی بیٹا ساتھ ان کی مدد کرتا تھا باپ الگ گھر میں ہے بیٹا الگ گھر میں ہے بیٹے کو بلایا کہ یہ پانچ سو ریال بجلی کا بل آیا ہے اب اتفاق سے اس کے پاس تھا بھی پانچ سو مہینے کا آخر ہے سوچتا ہے دل میں خیال آیا کہ دوسرے بیٹے کو کہہ دیں اس کو کہہ دیں کہتا ہے اچھا بل تو پکڑ لیا جیب میں ڈالا گاڑی پر نکلا سوچتا ہے ابھی میں جارہا ہوں رستے میں م و ت آگئی تو یہ پانچ سو بھی میرے کام نہیں آئے گا واپس گیا اور جا کر بل کیا ادائیگی کی اور گاڑی پر بیٹھا میرا اللہ مالک ہے اتفاق سے اس کی میٹنگ تھی کچھ مشائخ کے ساتھ علماء کے پاس جو اس کو دوسال پہلے سے جانتے تھے اس کی نیکی اس کی نماز پانچ سو ریال کا بل ادا کرنے والے پر کیا بیتی ہو گی کہا میرے پاس تو کچھ ہے نہیں جونہی وہاں سے میٹنگ سے فارغ ہوا تو ایک شیخ نے کہا میری بات سنو مجھے پتہ چلا تھا

کہ آپ مقروض ہیں اور اس نے آرام سے ایک چیک دیا کہ گھر جاکر اس کو کھولئے گا اور نام نہ لیجئے گا گھر جا کر کھولا تو پچاس ہزار ریال کا چیک تھا وہ اُٹھا جا کر ماں سے کہتا ہے کہ کوئی اور بل تو نہیں ہے ابھی ہزار کا بل آیا تو مجھے دیجئے گا کچھ زندہ مثالیں ایسی ہیں جو انسان کو سمجھ آجائیں تو بہت سارا معاملہ حل ہوجاتا ہے۔وہ اللہ کے ساتھ کسی اور الٰہ کو نہیں پکارتے نہ ہی اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو شخص ایسے کام کرے گا ان کی سزا پا کے رہے گا۔ قیامت کے دن اس کا عذاب دگنا کر دیا جائے گا اور ذلیل ہو کر اس میں ہمیشہ کے لئے پڑا رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں،

ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وہ تو حقیقتاً اللہ تعالی کی طرف سچا رجوع کرتا ہے ۔ابن قیم رحمہ اللہ اپنی کتاب “الجواب الكافی” میں کہتے ہیں: سراپا عدل و فضل پر مبنی حکم الہی ہے کہ : گناہ سے تائب ہونے والا ایسے ہی ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں!!” بلکہ اللہ تعالی نے شرک، معصوم جان کے قتل اور زنا سے توبہ کرنے والے کے لیے ضمانت لکھ دی ہے کہ اس کے گناہ کو نیکی میں بدل دے گا ، اللہ کا یہ حکم کسی بھی گناہ سے تائب ہونے والے کے لیے عام ہے۔اور ویسے بھی اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:آپ لوگوں سے کہہ دیجئے : اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.