جو بھی اس وظیفہ کو کرے گا اللہ کے حکم سے اس کو گارنٹی کے ساتھ بہت جلد ذاتی گھر مل جائے گا۔

رزق ایک ایسی نعمت ہے جس کی تقسیم کا ذمہ اور اختیار مالک کائنات نے اپنے پاس رکھا ہے اور کوئی شک نہیں کہ وہ ہر انسان کو طیب طاہر اور پاک رزق عطافرماتا ہے اور اس رزق میں اضافہ اور فراخی کے مواقع بھی بخشتا ہے۔اکثر انسانوں کی فطرت یہ ہے کہ وہ بھول جاتے ہیں کہ رزق کا وعدہ رب تعالیٰ کی ذات نے کررکھا ہے لہٰذا وہ ہماری قسمت میں لکھا گیا دانا پانی تقدیر کے مطابق ضرور عطا فرماتا ہے

لیکن کچھ لوگ یقین اور توکل کی کمی کا شکار ہو کر قبل از وقت اور ضرورت سے زیادہ طلب کرتے ہیں یا لالچ کا شکارہوکر بعض اوقات ناجائز حرام ذرائع کے استعمال سے اپنا حلال کا رزق بھی کھو دیتے ہیں۔اس تحریر میں اسی پریشانی اور اسی مشکل کے حل کے لئے ایک قرآن پاک کی مختصر آیت پیش کررہے ہیں اس آیت کو اپنے معمول میں شامل کرلیجئے انشاء اللہ رزق کی تنگی ہوگی روزگار کی تنگی ہوگی یا ملازمت کا مسئلہ ہوگا انشاء اللہ فورا سے پہلے حل ہوجائے گا۔ایک خاتون کہنے لگی کہ یہ آیت مجھے میرے استاد محترم کی طرف سے ہدیہ ملی گویا میرے چھپے ہوئے خزانوں کی چابیاں مل گئی ہوں گویا مجھے اپنے رب سے مانگنے کا طریقہ اور حوصلہ مل گیا ہو گویا ایک عاجزہ فقیرہ کو رحیم اور کریم ذات کا دروازہ مل گیا ہو بس میرے ہونٹوں کا ہلانا ہوتا ہے

اور میرے رب کی اداؤں کی بارش ہوتی ہے ہر وقت اس کے در کی محتاج ہر کام میں فورا اپنے مالک کا دروازہ اس آیت کے ذریعے بجا کر اپنا مقصد حاصل کرلیتی ہوں وہ مزید کہنے لگیں کہ میرے استاد محترم کا مجھ پر احسان ہے اللہ ان کی خدمات کو اپنی دین کے لئے مقبول و منظور فرمائے میں نے ان کے کلمات کو ضائع کئے بغیر اپنے پلو سے باندھ لیا اور وقتا فوقتا نفع اٹھاتی رہی جب میری شادی ہوئی تو شادی کے بعد میرے لئے سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ میں شرعی پردہ کرنے والی تھی کیونکہ میں عالمۃ الدین بھی ہوں اور گھر میں انسان جس طرح بھی رہے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ پیدائش سے لے کر بہنوں بھائیوں کا ساتھ ہوتا ہے ہر ایک کو طبیعت اور مزاج کا اندازہ ہوتا ہے اور آپس میں سمجھوتا ہوتا ہے لیکن جب عورت شادی کر کے دوسرے گھر میں جاتی ہے دوسرے ماحول میں جاتی ہے تو اس کو کئی لوگوں کا سامنا ہوتا ہے کئی لوگوں کی باتیں سننی پڑتی ہیں کئی لوگوں کی رائے کا لحاظ کرنا پڑتا ہے تو میرے سسرال والوں کو جب کہا گیا کہ لڑکی شرعی پردہ کرنے والی ہے

اور یہ چیز اس کی مطلوب ہے اور کوئی مطالبہ نہیں تو ان کو یہ بات انوکھی اور ان سنی معلوم ہوئی کہنے لگے اپنوں سے کیسا پردہ اور ادھر میرے ذہن میں یہ خیالات کہ اتنے ذہنوں کو کون اور کیسے تبدیل کرے گا یہ ایک بڑا مشکل مرحلہ تھا اور بڑا فیصلہ تھا ایک طرف سسرال کی ناراضگی اور دوسری طرف اللہ کی ناراضگی اور دل کی بے چینی اس کشمکش میں میں نے اس وظیفہ کو آزمانا چاہا اور اللہ پر کامل یقین تھا میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کردیا اس وظیفہ کی برکت سے اس کلمہ اور اس آیت کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آسانی فرمائی مجھے اللہ کی مدد اور اپنے شفیق شوہر کی مدد سے پردے والا سازگار ماحول مل گیا اس مسئلے کے بعد پھر دوسرا مسئلہ ہماری زندگی میں آنے والا یہ تھا کہ ہم کرایہ کے مکان میں رہتے تھے ہر ماہ کا کرایہ دینا

تاوان کی طرح معلوم ہوتا تھا اورمہینہ گزرتے معلوم نہ ہوتا ایک کرایہ دے کر فارغ ہونے کے بعد دوسرے کرایے کی فکر جس نے مجھے میرے خاوند کو بہت زیادہ پریشان کردیا تھا پھر اس مسئلہ کے حل کے لئے بھی ہم نے یہی وظیفہ پڑھنا شروع کردیا ہر وقت بس یہی آیت سورہ توبہ کی آیت نمبر 129 حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم بس پھر ہر وقت یہی آیت پڑھتی رہتی اللہ رب العزت کے کرم اور مہربانی سے یہ مسئلہ آٹھ ماہ کے اندر ایسے حل ہوا کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کیسے اور کہاں سے مدد آئی بس اللہ کی طرف سے مدد آئی یہ معلوم ہے جیسے قرآن پاک کی ایک آیت کا ترجمہ ہے کہ وہ وہاں سے دروازہ کھولتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا اور اب اللہ کے فضل و کرم سے ہم اپنے ذاتی گھر میں رہائش پذیر ہیں جس پر ہم اللہ تعالیٰ کے بے حد مشکور ہیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.