وہ گناہ جسکو چھوٹا سمجھ رہے ہیں

للہ کے رسولﷺ سے مروی احادیث و اخبار سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بے حجاب آوارہ پھرنے والی عورتیں جنت سے دور رکھی جائیں گی۔ ابوہریر ہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اہل دوزخ کی دو قسمیں ہیں جنہیں میں نے نہیں دیکھا،آپ نے ان میں سے ان عورتوں کا ذکر کیا جو کپڑا پہننے کے باوجود ن ن گ ی  ہوں گی ، دوسرے وہ عورتیں جو لوگوں کی طرف مائل ہوں گی یا لوگوں کو مائل کرنے والی ہوں گی ، ان کے سر بوڑھی اونٹنی کے کوہان کی مانند ہوں گے، وہ نہ جنت میں داخل ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، جب کہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی۔۔۔۔

مسافت سے محسوس کر لی جائے گی۔‘‘(مسلم) مسلمان عورت کا بے پردہ گھومنا گناہِ کبیرہ ہے ، کیوں کہ اس کے سلسلے میں سخت وعیدیں آئی ہیں ، جن کی وجہ سے ممکن ہے کہ بے پردہ عورتیں اہلِ دوزخ میں سے ہو جائیں،چناں چہ صحیح حدیث میں رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ دنیا میں بہت ساری کپڑے میں ملبوس عورتیں آخرت میں ن ن گ ی  ہوں گی۔(بخاری) حدیث پاک میں مذکور لفظ’’ کاسیۃ فی الدنیا عاریۃ فی الآخرہ‘‘ کی چند وجوہ سے وضاحت کی گئی ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں: ا۔عورت دولت و ثروت اور بہت سارے ڈریسز کی وجہ سے دنیا میں تو کپڑوں میں ملبوس ہو گی ، مگر دنیا میں عملِ صالح نہ ہونے کے سبب آخرت میں ن ن گ ی  ہو گی۔ ۲۔عورت کپڑا تو زیبِ تن کیے ہو

لیکن وہ اس قدر باریک ہو کہ اس کا جسم جھلکے تو قیامت میں بطورِ سزا ن ن گ ی  ہو گی۔ ۳۔عورت دنیا میں اللہ تعالی کی نعمتوں سے تو مالا مال ہو لیکن ایسے شکر سے عاری ہو جس کا ثمر ہ آخرت میں ثواب کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ۴۔عورت اپنے جسم کو تو ڈھانک لے لیکن اپنی اوڑھنی پیچھے سے اس طرح باندھے کہ اس کے سینے کا ابھار، اور جسم کا اگلا حصہ ظاہر ہو جائے اور وہ ن ن گ ی  محسوس ہو تو اس کو اس عمل پر آخرت میں عذاب ہو گا۔ ۵۔عورت دنیا میں نیک آدمی سے شادی کرنے کی وجہ سے کپڑا پہنی شمار کی جائے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے ’’ہن لباس لکم وانتم لباس لہن ‘‘ لیکن عمل سے کوری ہونے کی وجہ سے آخرت میں ن ن گ ی  ہو گی۔

جہاں اس کے شوہر کی نیکی اس کے لیے ہر گز مفید نہ ہو گی۔ ارشا د باری تعالی ہے۔ ترجمہ: ’’اس دن ان کے آپس میں کوئی رشتے ناطے بھی کام نہ آئیں گے۔‘‘(سورۂ مومنون/ا۰ا) ۶۔ دنیا میں تو حسب ونسب اور شرف و منصب کے لباس میں ملبوس اور مزین وآراستہ ہو لیکن آخرت میں دوزخ کے اندر (اچھے اعمال کے نہ ہونے کے سبب )ن ن گ ی  ہو گی۔ اس لیے عورت کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونے اور بے پردگی کے سخت انجام پر غور کرنا چاہیے۔ اُسے اِس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ یہی وہ عورت ذات ہے جو برقعہ، اوڑھنی اور حجاب کے پسِ پردہ فتنہ اور میلان کا سبب بنی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسی نے مؤمن مردوں اور عورتوں کو فتنہ میں مبتلا کیا اور ان کو گمراہ کیا۔

بالآخر ان کے قدموں کو جنت کے راستوں سے ہٹا دیا۔ اللہ کی نظرِ رحمت سے دور رہنے والے قیامت کے دن کچھ ایسے بد نصیب ہوں گے جو اللہ تعالی کی نظرِ رحمت سے دور اور اس کی گفتگو سے محروم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے پاک نہ کرے گا بلکہ وہ دردناک عذاب کے مستحق ہوں گے۔ قرآن و حدیث ایسی بہت ساری نصوص وارد ہوئی ہیں جن میں ایسے گناہوں کا تذکرہ ہے کہ ان کے ارتکاب پر قیامت کے دن اللہ تعالی بندہ سے نہ بات کریں گے ، نہ اس کی طرف دیکھیں گے، اور نہ ہی اس کو گناہوں سے پاک وصاف کریں گے، بلکہ اس کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ منجملہ ان تمام گناہوں کے اللہ تعالی کی نازل کردہ آیات و احکامات کا چھپانا ہے۔

اس کے مصداق وہ علماء ہیں جو حاکم کی خوشی، مصلحت یا دنیوی غرض کے حصول کے واسطے اپنے علوم کو چھپاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے۔ترجمہ: ’’بے شک جو لوگ چھپاتے ہیں اس کو جو اللہ نے کتاب میں نازل فرمایا اور اس کو چھپا کر حقیر نفع حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں، یہ مال کھا کر انہوں نے اپنے پیٹ میں آگ بھر لی ہے۔قیامت کے روز اللہ ان سے بات نہ کرے گا اور ان کو (گناہوں سے) پاک نہ کرے گا، ا ن کو بڑا دکھ دینے والا عذاب ہو گا، یہ وہ بد نصیب ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خرید لی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا، آگ میں جانے پر کتنی دلیری اور حوصلہ بتا رہے ہیں۔‘‘ (سورہ بقرہ /۷۴ا،۷۵ا) امام بغویؒ آیت کر یمہ (ولایکلمہم اللہ یوم القیامۃ ولا یزکیہم) ترجمہ : ’’ قیامت کے روز اللہ ان سے بات نہ کرے گا اور ان کو گناہوں سے پاک نہ کرے گا‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے رحمت اور نرمی کے ساتھ بات نہیں کریں گے۔

کہ جس سے ان کو مسرت ہو، بلکہ ان سے انتہائی سخت انداز میں بات کریں گے، اس کے علاوہ اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یہ غضب و غصہ کی ایک تعبیر ہے چناں چہ جب کوئی کسی سے ناراض ہوتا ہے تو توبیخاً یہی کہتا ہے میں تم سے بات بھی نہیں کروں گا۔ابو ہریرہؓ روایت فرما تے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی جسے اس نے جاننے کے باوجود نہ بتا یا تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔‘‘ (ابو داؤد و ترمذی) اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے دور وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کو توڑ تے ہیں، اپنی جھوٹی قسموں سے اپنے ذاتی اور معمولی مقصد کے حصول کے لیے محض تھوڑی سی رقم پر سودا کر لیتے ہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے۔ ترجمہ: ’’جو لوگ اللہ سے کیا ہوا اقرار اور اپنی قسموں کا تھوڑے مول پر سود ا کر ڈالتے ہیں ، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات بھی نہ کرے گا، اور نظر کرم سے بھی محروم کر دے گا اور ان کو پاک بھی نہ کرے گا، (بلکہ گناہوں کی گندگی میں پڑا رہنے دے گا) اور ان کو بڑا دردناک عذاب ہے۔‘‘(سورۂ آل عمران /۷۷) انہیں کے زمرہ میں اپنے لباس کو ٹخنہ سے نیچے لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور اپنے سامان یا بیع کی شہرت اور مقبولیت کے لیے جھوٹی قسم کھانے والا بھی ہے۔ ابو ذرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’قیامت میں تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالی نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا۔

نیز نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا،بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا، ابو ذرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے یہ آیت (ولایکلمہم اللہ یوم القیامۃولا یزکیہم۔۔۔الخ) تین بار پڑھی، ابو ذرؓ نے کہا:’’خابوا وخسروا’‘ ہلاک وبرباد ہوں ! اے اللہ کے رسولﷺ !وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا : ٹخنوں کے نیچے تک( پائجامہ ، لنگی یا کرتا) لٹکانے والا، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کے ذریعے اپنے سامان کی قیمت بڑھانے والا۔ (مسلم) انہی لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو کسی ایسی جگہ ہو جہاں پانی کی قلت ہو اور اس کے پاس ضرورت سے زائد پانی ہو مگر وہ ضرورت مندوں کو نہ دے۔ اسی فہرست میں اس شخص کا بھی نام ہے جو امامِ وقت کے ہاتھ پر محض لالچ اور دنیوی مال و متاع کے حصول کے لیے بیعت کرے، چناں چہ ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت میں تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالی نہ بات کرے گا۔

نہ ان کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا، نیز نہ ہی ان کو گناہوں سے پا ک کرے گا، بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ ان میں سے ایک وہ شخص جو بیابان میں ہو اوراس کے پاس ضرورت سے زائد پانی ہو لیکن وہ مسافر کو نہ دے۔ دوسرے وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی سے کسی سامان کے سلسلے میں لین دین کیا ، اور اس کو اتنے اتنے میں لینے کے لیے اللہ کی قسم کھائی ،حالاں کہ وہ اپنی قسم میں سچا نہیں تھا۔تیسرے وہ شخص جو امامِ وقت کے ہاتھ پر اس لیے بیعت کرتا ہے تا کہ اس کو دنیا کا کچھ مال و متاع مل جائے، اگر اس کو اس میں سے کچھ مل جاتا ہے تو فبہا، ورنہ اس کے ساتھ بے وفائی کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم) انہی لوگوں میں بوڑھا ز ا ن ی ، جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر ہے۔ ابوہریرہؓ سے مروی ہے آپﷺ نے فرمایا: ’’قیامت میں تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالی نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا۔

نیز نہ ہی ان کو گناہوں سے پا ک کرے گا، بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا، وہ یہ لوگ ہیں : بوڑھا ز ا ن ی ، جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر۔(مسلم ) اور انہی لوگوں میں والدین کا نافرمان ، نیز لباس، ہیئت ، شکل و صورت وغیرہ میں مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت اور دیوث شامل ہیں۔ دیوث وہ شخص ہے جس میں اپنے اہل و عیال کے تعلق سے غیرت نہ ہو، یا ان میں خباثت دیکھنے کے باوجود اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ اسے جوں کا توں برقرار رکھتا ہے۔ ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ۔

’’ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نہ کلام فرمائیں گے، نہ ان کی جانب نظرِ رحمت کریں گے، اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کریں گے، بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا: ایک بوڑھا زن ا کار، دوسرا جھوٹا بادشاہ اور تیسرا وہ محتاج جو کبر میں مبتلا ہو۔‘‘ ایک اور حدیث میں اسی قسم کا مضمون آیا ہے، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’تین لوگوں کی جانب اللہ تعالی نظرِ رحمت نہ فرمائیں گے، والدین کا نافرمان ،مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت اور دیوث۔ نیز آپﷺ نے فرمایا کہ تین لوگ جنت میں نہیں داخل ہوں گے، والدین کا نافرمان، شراب کا عادی اور احسان جتلانے والا۔ (نسائی وغیرہ)

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.