سعودی لڑکی نے امتحانی پرچہ دیتے ہوئے بچے کو ہال میں بچے کو جنم دے دیا

ایک سعودی لڑکی نے زچگی کے درد کے دوران ہی ہائی اسکول کا پرچہ مکمل کیا اور تھوڑی دیر بعد ہی وہ ایک نوزائیدہ بچی کی ماں بن گئی۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مدینہ کی رہائشی ایک سکول طالبہ نُورا کی زچگی کے لمحات قریب تھے۔ جس وقت وہ تھرڈ ایئر کا پرچہ دینے گئی تب بھی اُسے زچگی کی شدید تکلیف ہو رہی تھی۔مگر تعلیم سے محبت کے جذبے نے اُسے تین گھنٹے تک کمرہ امتحان میں بٹھائے رکھا۔ جونہی اُس نے اپنا پرچہ مکمل کیا تو اُس کی تکلیف برداشت سے باہر ہو گئی۔ خاتون ممتحنوں نے اُس کی خراب حالت دیکھ کر فوری طور پر ایمبولینس سکول بُلوا لی۔ نُورا کو ابھی ایمبولینس کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کیا ہی جا رہا تھا کہ راستے میں ہی اُس نے ایک بچی کو جنم دے دیا۔

زچہ و بچہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے دونوں کی حالت ٹھیک قرار دے دی۔ تاہم نُورا کی عمر ظاہر نہیں کی گئی۔نُورا کی ایک سہیلی نے میڈیا کے نام جاری پیغام میں بتایا کہ کمرہ امتحان میں اُس کی زچگی کی تکلیف بہت زیادہ ہو گئی تھی، تاہم اُس نے ہمت کر کے اپنا پرچہ مکمل کر ہی لیا۔ سہیلی نے بتایا کہ وہ اور نُورا ایک ہی کار میں بیٹھ کر کمرہ امتحان پہنچی تھیں۔تاہم صبح کے اوقات میں نُورا کو ہشاش بشاش دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ چند گھنٹوں بعد ہی ایک بچی کو جنم دے گی۔ جس وقت نُورا کو امتحانی پرچہ دیا گیا، اُس کے تھوڑی دیر بعد ہی اُس کی حالت خراب دکھائی دینے لگی تاہم اُس نے ممتحنوں کے اصرار کے باوجود پرچہ ادھورا چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا۔ پرچہ مکمل کرنے کے بعد جوں ہی وہ کمرہ امتحان سے باہر جانے لگی تو اچانک زچگی کی شدید تکلیف کے باعث وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔

اُس کی اس خراب حالت سے سراسیمگی پھیل گئی ۔ سُپروائزر نے فوری طور پر ہلالِ احمر کو فون کر کے ایمبولینس منگوا لی اور ساتھ ہی نُورا کے گھر والوں کو بھی ساری صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔ نُورا ابھی اسپتال پہنچنے بھی نہ پائی تھی کہ رستے میں ہی اُس کے ہاں ایک پیاری سی بچی کی ولادت ہو گئی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.