کیا لڑکا لڑکی خود آپس میں نکاح پڑھ سکتے ہیں ؟جانیں اور مزے کریں

ایک بالغ لڑکا اور ایک بالغ لڑکی آپس میں نکاح کرسکتے ہیں کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے کہ یہ دونوں خود نکاح کر لیں ؟اس طرح اس میں لڑکا لڑکی خود اگر اپنا نکاح پڑھتے ہیں اس میں کئی شرعی پہلو آتے ہیں جس کی وجہ سے نکاح مشکوک ہوجاتا ہے بلکہ باطل ہوجاتا ہے ۔نمبر ایک یہ کہ یہ لڑکا لڑکی کسی سے پوچھے بغیر والدین سے پوچھے بغیر خصوصالڑکی اپنے والد کی اجازت کے بغیر خود ہی یونیورسٹی میں کالج میں کسی لڑکے کے ساتھ نکاح کروانا چاہتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ لڑکی اگر کنواری ہے تو باپ یا دادا میں سے کسی کی اجازت لازمی ہے جس طرح بچی کی اپنی اجازت لازمی ہے

اسی طرح کنواری ہونے کی صورت میں باپ یا دادا کی اجازت کی بھی ضرورت ہے۔ ان کے علاوہ باقی رشتہ داروں کو بھی اخلاقی طورپر اعتماد میں لینا چاہئے لیکن شرعی طورپر باپ دادا کے علاوہ کسی اور کی رضا مندی ضروری نہیں ہے حتی کہ ماں سگے بھائی ان سے اجازت نہ لی جائے اور ان سے مشورہ نہ کیاجائے صرف باپ دادا کے مشورے سے لڑکی کسی لڑکے سے نکاح کرتی ہے شادی کرتی ہے تو وہ ٹھیک ہے اور جہاں تک نکاح پڑھنے کا تعلق ہے یہ کوئی قرآن کی تلاوت نہیں ہے کہ آپ کو آیت کا مطلب آتا ہو یا نہ آتا ہو سمجھ میں آتا ہو یا نہ آتا ہو آپ تلاوت کرتے ہیں تو اس کا آپ کو ثواب مل جاتا ہے یہ آیات پڑھنی ہوتی ہیں جو پڑھ رہا ہوتا ہے اس کو آیات کے مطلب آیات کے مفہوم سے آگاہ ہونا چاہئے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ۔دوسری بات یہ ہے کہ اس میں ایک خاص قسم کی نیت کرنی ہوتی ہے اس کا نام قصد انشاء ہے جس کا مطلب یہ ہے۔ کہ اگرچہ نکاح کا لفظ انکحت ہے یہ ماضی کا لفظ اور صیغہ ہے عام طور پر گذرے ہوئے زمانے میں جو واقعہ پیش آچکاہوتاہے

اس کی خبر دی جاتی ہے انکحت ضربت ،اکلت،شربت،میں نے کھایا میں نے پیا،میں نکاح پڑھا،نکاح پڑھا کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ایک دن پہلے نکاح پڑھا ہے اور اب خبر دے رہے ہیں نہیں انکحت کا مطلب یہ ہے کہ یہ نیت کرے کہ اس لفظ انکحت کے ذریعے اس لڑکا یا لڑکی درمیان میں ایک رشتہ قائم کررہا ہوں ایک رشتے کو ایجاد کررہا ہوں اس کو قصد انشاء کہتے ہیں یہ عام آدمی ظاہر ہے اس چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اس لئے بہتر ہے کہ کسی مستند عالم دین کی خدمات حاصل کریں جو یہ تمام شرائط کے ساتھ نکاح پڑھے اگر خودہی پڑھنا چاہتے ہیں چھپ کے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر یہ والدین کو اعتماد میں بھی نہیں لے رہے خصوصا باب دادا کو اعتماد میں نہیں لیا پھر کسی عالم دین سے بھی پڑھائیں تو بھی نکاح صحیح نہیں ہوگا۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.