سخت سردی میں غسل چھوڑ سکتے ہیں؟ کیا غسل کے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

ابو داؤ د اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ ایک سفر کے دوران ایک صحابی کو احتلام ہوگیا اور اسی سفر میں سر کو پتھر لگنے سے زخم بھی ہوگیا۔ اب ناپاک ہوگئے تو صحابہ کرام نے کہا کہ تم پلید ہوگئے ہو فجر پڑھنی ہے نہاؤ ۔ سخت سردیاں تھیں وہ نہائے اور فوت ہوگئے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم کو علم نہیں تھا تو علم والے سے مشورہ لے لیتے ۔تم نے ان غسل کروا لیا۔اگر کسی طرح کوئی مسئلہ ہوجائے زبردستی اپنے زخم کو نہ بگاڑیں باقی پاؤں کا حصہ دھو لیں۔

اور باقی جسم کے حصے میں زخم ہے وہاں ہاتھ پھیر لیں ۔ زیادہ مسئلہ ہے تو جرابیں چڑھا لیں مساح کرتے رہیں پانچ نمازوں تک ۔ لوگوں کاایک تجربہ ہے کہ جتنی بار فجر کے وقت غسل کیاہے تو وہ بیمار ہوئے ہیں۔وہ فجر تیمم کر کے پڑھیں اورظہر کے وقت غسل کرلیں۔سنن ابی داؤد میں حدیث ہے کہ دو بندے سفر پر تھے تو راستے میں پانی نہ ملا دونوں نے تیمم کرکے نماز پڑھی تو گھر پہنچے جس نے تیمم کرکے ایک بندے نے جو نماز پڑھتی تھی۔

اس نے گھر آکر وضو کرکے دوبارہ نماز پڑھ لی ۔ دوسرے نے نہیں پڑھی ۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا بلکل ٹھیک کیا اس نے کہ نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں تھی اور جس نے پڑھ لی تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے دے گا۔ یہ نہیں کہ میں نے تیمم کیساتھ پڑھی تو دوبارہ غسل کرکے پڑھوں تواس وہم میں نہیں آنا۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.