حمل کے دوران صرف ایک بار عمل کریں بیٹا ہی پیدا ہوگا

چاند جیسا بیٹا ہی پیدا ہوگا، ان شاءاللہ کیا لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہونا ایک مرض نہیں ہے؟ میں یہ کہتا ہوں کہ اس سے بڑی کوئی مرض ہو ہی نہیں سکتی، اسے ایک مرض سمجھ کر علاج نہ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے، مختلف حکماء نے اسے ایک مرض سمجھ کر اس پر تحقیق کے بعد اپنے اپنے انداز سےعلاج تجویز کئے ہیں۔ اولاد نرینہ کے لئے علاج سے شریعت نے منع نہیں فرمایا، الحمداللہ میرا اس بات پر کامل یقین ہے کہ صرف لڑکے اور لڑکیاں ہی نہیں بلکہ سب کچھ میرا رحیم و کریم پرودگار ہی عطا کرتا ہے۔ ایسے مریض جو مجھ سے گارنٹی یا شفا طلب کرتے ہیں میں ان کا علاج ہی نہیں کرتا سیدھی سی بات کہ ایک طبیب نیک نیتی اور اخلاص کے صرف علاج کر سکتا ہے کسی شفا دینا صرف اللہ کا کام ہے

اس لئے اولاد نرینہ کے لئے روحانی وظائف، دعا اور مناجات کے ساتھ دوا اوردرست علاج کرنا کوئی غیر شرعی کام نہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے معاشروں میں آج بھی بچے کی جنس کا ذمہ دار ماں کو ٹھرایا جاتا ہے حالانکہ سائنسی تحقیق سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بچے کی جنس طے کرنے میں عورت کا کوئی کردار نہیں بلکہ بیٹے یا بیٹی کی پیدائش کا انحصار مکمل طور پر مرد کے جینز پر ہےمرد اور عورت ، کے ایک جرثومے کے اندر 23 کروموسوم ہوتے ہیں۔ جب جرثومے اور بیضے کا ملاپ ہوتاہے تو یہ سب جرثومے جوڑوں کی شکل مں مل جاتے ہں ۔ اس طرح کل 23جوڑے بن جاتے ہیں’یعنی کل کروموسومز کی تعداد 46ہوتی ہے۔ ان میں سے 22جوڑے غیر جنسی ہوتے ہیں اوران کو آٹوسوم کہا جاتا ہے۔ جبکہ 23 واں جوڑا جنسی جوڑا ہوتاہے۔ اور یہی جوڑا جنین کی جنس کا تعین کرتاہے کہ وہ لڑکا ہو گا یالڑکی۔ مرد کے جرثومے کے اند ر دو اقسام کے کروموسومز تشکیل پاتے ہیں، ان کو “ایکس” اور “وائے” کہا جاتا ہے۔ مگر عورت کے بیضے کے اندر تمام کروموسومز “ایکس” نوعیت کے ہوتے ہیں۔

کروموسومزکو یہ نام اِن حروف سے مشابہت کی بنا پر دئیے گئے ہیں۔ ” وائے” کروموسوم میں مؤنث جینز ہوتے ہیں۔ انسانی بچے کی تخلیق کی ابتدا ان کروموسومز کے آپس میں ملاپ سے شروع ہوتی ہے۔ جبکہ جنس کا تعین 23ویں جوڑے پر ہوتاہے۔ اگر 23 واں جوڑا “ایکس ایکس” ہے تو جنم لنے والا بچہ لڑکی ہوگا اوراگر یہ جوڑا ” ایکس ، وائے” ہے، تو جنم لینے والا بچہ لڑکا ہو گا۔دوسرے الفاظ میں اگر مرد کا 23واں کروموسوم “ایکس” ہے تو جیسے یہ عورت کے 23ویں کروموسوم “ایکس” سے ملے گا تو پیدا ہونے والا بچہ لڑکی ہوگی۔ اور اگر مرد کا یہ کروموسوم “وائے” ہے تو عورت کے “ایکس” سے جب یہ ملاپ کرے گاتو پیدا ہونے والا بچہ لڑکاہوگا۔ مختصراً یہ کہ لڑکے کی جنس کا تعین میں مرد کی طرف سے آئے ہوئے کروموسوم ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ہاں البتہ مرد حضرات کئ لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اولاد نرینہ کے حصول کلئے مرد کے ایکٹو سپرم کی 80 فصدل مقدار ضروری ہے اگر سپرم کی تعداد اس سےکم ہو تو مریض کو معالج سے رجوع کرنا چاہئے۔

یہ تو تھی میڈیکل سائنس کی بات اگر ہم اس چیز کو دیکھیں گے کہ کس طرح سے عورت پہ توجہ دے کر اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن گھروں میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوتے ہیں تو اگر کوئی بیٹی کا خواہش مند ہے تو ان گھروں میں لڑکیاں پیدا کرنے کے لئے کیا تدبیر یا نسخہ دیا جائے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جن گھروں میں لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوتے ہیں ان گھروں کی عورتوں کو حمل کے 60 دن بعد اگر گرم تر غذائیں اور ادویات کھلائی جائیں تو ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ ایسی عورتیں جنہیں لڑکے پیدا ہوتے ہیں، لڑکی پیدا ہو گی۔ اولاد نرینہ کے حصول کے لئے نسخہ حب نرینہ حاضر خدمت ہے مور کے پر کی ٹکی تین عدد، تخم بھنگ ایک تولہ، گڑ پرانا دو تولہ، مشک خالص چھ رتی۔ سب کو باریک پیس کر جنگلی بیر کے برابر گولی بنالیں، مقدار خوراک ایک گولی دن میں تین بار ہمراہ لونگ اور دار چینی کے قہوے سے دیں۔

ضروری گزارش صبح دوا کھانے سے پہلے دو رکعت نماز نفل پڑھ کر اپنے مقصد کے لئے اللہ سے دعا کریں، بیشک اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ حمل کے تیسرے مہینے کے پہلے ہفتے میں شروع کریں، 15 دن باقائیدہ پرہیز کے ساتھ کھلائیں۔ غذا اور پرہیز پورا تیسرا مہینہ جاری رکھیں، ان شاءاللہ لڑکا پیدا ہوگا۔ غذائی علاج : مربہ آملہ،مربہ ہڑر، کشمش، انڈے، بھنے چنے، دہی، لسی، کوئی بھی گوشت، مچھلی، آلو، گوبھی، پالک، دال چنے،مکئی، سرسوں کا ساگ، سیب، مالٹا، آلو بخارا، انار ترش،آڑو۔ پرہیز: دودھ، بالائی ،مکھن، مولی ،گاجر ،شلغم، ٹینڈے، توری، کدو، بھنڈی، چاول، آئس کریم، بادام سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے۔ حمل کے چوتھے مہینے تک یہ پرہیز کریں اس کے بعد ہر قسم کی غذا کھا سکتے ہیں۔ دوران حمل اور اس نسخہ کو استعمال کرنے والی خواتین، روزانہ سورۃ محمد اور سورۃ مریم تلاوت کریں، مرد حضرات کثرت سے درود ابراہیمی پڑھیں۔ اس کے ساتھ اگریہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کر لی جائیں تو یقینی نتائج حاصل ہوں گے۔لڑکے کی پیدائش میں ماں کی بہترین غذا بہت اہمیت رکھتی ہےاس لئے حمل سے پہلے اور دوران حمل اچھی غذا کا استعمال اور باقاعدگی سے ناشتہ کرنے کا بچے کی جنس پر بہت مثبت اثر پڑتا ہے، ایسی خواتین کے ہاں بیٹے کی ولادت کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ناشتہ نہ کرنے والی خواتین میں گلوکوز کی مقدارکم ہوجاتی ہے اورجدید تحقیق بھی اس تھیوری کو تسلیم کرتی ہے کہ جسم میں گلوکوز کی زیادہ مقدار سے لڑکوں کے زیادہ اور لڑکیوں کے پیدا ہونے کے کم امکانات ہوتے ہیں۔ قدیم اطباء نے اس راز کو جان لا تھا کہ عورت کی دائیں طرف زیادہ گرم رہتی ہے جس کی وجہ سے دائیں حصہ کو اولاد نرینہ کیلئے مختص سمجھا جاتا ہے جو عورتیں ملاپ کے بعد دائیں کروٹ کی طرف لیٹیں توان کے ہاں اولاد نرینہ ہوگی۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چھوٹی ایسی معلومات پر عمل کرکے اولاد نرینہ کے حصول کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ ایسی خواتین جن کو حیض اٹھائیس دن کے مقرر وقت سے پہلے شروع ہوجاتا ہے ان کے ہاں عموماً لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ خواتین جن کے حیض کا آغاز اٹھائیس دن کا دورانیہ مکمل ہونےکے بعد شروع ہوتا ہے اور خون بھی مناسب مقدار میں آئےان کے ہاں لڑکے کی پیدائش کا امکان قوی ہوتا ۔ میرے نسخہ جات آپ زبانی دوسروں کو بتائیں یا شیئر کریں یہ آپ کے لئے بھی اور میرے لئے بھی صدقہ جاریہ بنیں گے۔ آپ سے دعاؤں کی بھی درخواست ہے۔طالب دعا، بشکریہ دیسی معلومات اور علاج

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.