عورتیں بلاوجہ کیوں روتی ہیں؟

ہم نے اکثر عورتوں کو منہ چھپائے روتے دیکھا ہو گااور ان عورتوں میں سرفہرست ہماری ماں اور بیوی ہوتی ہیں۔۔اسی بلاوجہ رونے کی وجہ سے ہی عورت کے آنسوؤں کو مگر مچھ کے آنسوؤں سے تشبیہ بھی دی جاتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت کو جانتے ہوں گے کہ عورتیں بلاوجہ کیوں روتی ہیں،اس تحریر میں بتایا جائے گا کہ عورتیں بلاوجہ کیوں روتی ہیں۔ایک لڑکے نے اپنی ماں سے پوچھا :امی آپ ہمیشہ کیوں روتی ہیں؟ماں نے مسکرا کر جواب دیا :کیونکہ میں ایک عورت ہوں۔لڑکا:مجھے سمجھ نہیں آئی آپ کی بات کی۔ماں نے بیٹے کو گلے لگایا اور کہا: تم شاید کبھی سمجھ بھی نہ پاؤ مرے لعل۔لڑکا اپنے ابا کے پاس چلا گیا اور ان سے پوچھا:اباجان! امی بغیر وجہ کے کیوں روتی ہیں؟باپ:بیٹا تمام عورتیں بغیر وجہ کے رو لیتی ہیں۔یوں لڑکے کو اس وقت کوئی واضح جواب نہ مل سکا۔اس بات کو کئی سال گزر گئے اور وہ ابھی بھی عورتوں کے بغیر وجہ کے رونے کو نہ سمجھ پایا تھا۔

اس کو ایک دانا بزرگ کا پتہ لگا۔ وہ ان کے پاس گیا اور ان سے یہی سوال پوچھا۔ان بزرگِ دانا نے جواب دیا:بیٹا جب اللہ نے عورت کو بنایا تو اس کو مضبوط کندھوں سے نوازاں کہ وہ دنیا کے بوجھ برداشت کر سکے اور اس کو نرم پیار کرنے والے بازوؤں سے نوازا کہ وہ ان سے استراحت دے سکے اور اس کو پنہاں قوت سے نوازا کہ وہ اپنی کوکھ کا بوجھ برداشت کر سکے اور بچوں کو جنم دے سکے اور کبھی اپنے آپ کو دھتکارے جانے کے غم کو بھی سہار سکے اور پھر اس کو وہ خاص قوت بھی عطا کی کہ وہ اپنے خاندان کے غموں اور پریشانیوں کو بھی برداشت کر سکے اور ان کا خیال رکھ سکے اور نہایت سخت حالات میں بھی بغیر کوئی شکوہ زبان پر لائے اپنے قدموں پہ مضبوطی سے قائم رہ سکے اور اللہ نے عورت کو ناختم ہونے والے پیار اور معاف کر دینے والے دل سے بھی نوازا کہ اس کی اولاد کتنی ہی گستاخ اور نافرمان کیوں نہ ہو وہ پلک جھپکنے میں اس اذیت دینے والی اولاد کو بھی معاف کرسکے

اور آخر میں اللہ نے عورت کو آنسو بھی عطا کر دیئے کہ جب کبھی عورت کی تکالیف اور مشکلات حد سے بڑھ جائیں تو ان کا بوجھ کم کرنے کے لئے چند آنسو بہا سکے۔اپنے کرب کو کم کر سکے اور پھر نئے سرے سے زندگی کے غموں کا سامنا کرسکے۔یہی اس کی زندگی کا واحد کمزور نکتہ ہے۔اس لئے ہمیں عورت کے ان آنسوؤں کو عزت دینی چاہئے اور ان کا مذاق نہیں اڑانا چاہئے چاہے وہ بغیر کسی وجہ کے ہی آنسو بہائے۔بیٹا !تمہاری خوراک کی نالی اسی لمحے کاٹ دی گئی تھی جس لمحے تم نے اس دنیا میں قدم رکھا مگر اس کا نشان ناف کی صورت میں آج بھی تمہارے جسم پہ موجود ہے تا کہ تم ہمیشہ اس عظیم ہستی کو جو کہ ایک عورت ہی ہے،یادرکھو جس نے نو ماہ تمہیں اپنی کوکھ میں سینت سینت کر رکھا۔یوں اس لڑکے کی تلاش ختم ہوئی اور اس کو اپنے سوال کا جواب مل گیا۔اللہ ہمیں بھی ہمارے اہل و عیال میں موجود خواتی(ماں ،بہن،بیوی ،بیٹی)کی عزت و تکریم اور ان کا حق ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.