اللہ تعالیٰ نے ناف کیوں بنائی ہے؟

انسانی بدن میں ناف اللہ کی ایک خاص تخلیق ہے جو انسانی جسم کی افزائش کی ابتداء سے لے کر اس کے کامل ہونے تک اس کی بہترین بڑھوتری کی ضامن ہے ناف اللہ کی ایک خاص نعمت ہے جو بچے کے وجود میں آتے ہیں انسان کو عطا کیاجاتا ہے ۔ناف اصل میں ایک زخم کا نشان ہے جو اس کو دنیا میں آتے ہی دیا جاتا ہے بچے اور ماں کے جسم کو آپس میں منسلک کرنے والی ایمبیلیکل کاٹ کو جب کاٹ دیا جاتا ہے تو پھر اس سے بننے والی ناف کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ زخم کیسے مندمل ہوا جب بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو وہ نعل کے ذریعے ماں سے منسلک ہوتا ہے اور اللہ نے ایک ایسا نظام بنایا ہوتا ہے کہ وہیں اس کی خوراک کا بندوبست ہوجاتا ہے یہ نعل ماں کے جسم سے ہوتی ہوئی بچے کے جسم تک جاتی ہے اور جسم کے اندر کھلتی ہے پیدائش کے بعد جب ناف کو الگ کردیا جاتا ہے

تو یہ کھلا حصہ بند ہوجاتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بند ہونے کے بعد بھی ناف کی افادیت میں کمی نہیں آتی اگر یوں کہا جائے کہ اللہ کا ایک خاص تحفہ ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ناف کے ذریعے کس طرح کیا طریقے اپنا کر کن کن بیماریوں سے شفا پاسکتے ہیں ؟جدید میڈیکل سائنس کی ریسرچ کے مطابق سب سے پہلے انسان میں ناف وجود میں آتی ہے جو پھر ایک کارڈ کے ذریعے ماں سے جوڑ دی جاتی ہے اور ا س خاص تحفے سے ایک پورا انسان فارم ہوجاتا ہے ۔ایک انسان کے مرنے کے تین گھنٹے بعد تک ناف کا یہ حصہ گرم رہتا ہے وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں سے بچوں کو ماں کے ذریعے خوراک ملتی ہے اور بچہ پوری طرح سے 270 دن میں بن جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری تمام رگیں اسی مقام سے جڑی ہوتی ہیں اس لئے اس کی اپنی ایک خود کی زندگی ہوتی ہے ایک مشہور ریسرچر لکھتے ہیں

کہ باسٹھ سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو دائیں آنکھ سے صحیح نظر نہیں آرہا ہے تھا خاص طور پر رات کے وقت ان کی نظر اور بھی خراب ہوجاتی تھی ڈاکٹرز نے ان کو بتایا کہ آپ کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں لیکن جن رنگوں سے آنکھوں تک خون فراہم کیاجاتا ہے وہ سوکھ چکی ہیں تو اس کو ایک طبیب نے مشورہ دیا آنکھوں کے سوکھ جانے سے اگر نجات پانا چاہتے ہیں تو ہر روز سونے سے قبل خالص دیسی گھی کے تین قطرے ناف کے سوراخ میں ٹپکائیں اور مساج کرتے رہیں اور چند ہفتوں کے اندر اندر آپ کو خاصا افاقہ ہو گا ناف کے سوراخ میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جسم کے اندراگر کچھ رگیں سوکھ چکیں ہیں تو اس سوراخ کے ذریعے ان تک تیل پہنچایا جاسکتا ہے جس سے وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں ۔کپکپی اور سستی دور کرنے کے لئے جوڑوں اور گھٹنوں کے درد کے لئے سرسوں کے تیل کے تین قطرے ناف میں ٹپکائیں

اور پھر آہستہ آہستہ مساج کریں اکثر اوقات یہ دیکھنے میں آتاہے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی قوت سماعت کم ہوتی جاتی ہے اور کانوں میں شوں شوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں تو اگر گانوں سے یہ آواز دور کرنی ہو تو سرسوں کے پچاس گرام تیل میں تخم ہرمل دو عدد پیس کر شامل کر کے ناف میں پندرہ دن لگانے سے یہ آوازیں آنا ختم ہوجاتی ہیں اور قوت سماعت کو بہتر بنانے کے لئے سرسوں کے پچاس گرام تیل میں دار چینی پیسیں اور 20 گرام جلا کر وہ تیل ناف میں لگانے سے قوت سماعت میں بہتری آتی ہے اسی طرح شیر خوار بچوں کے پیٹ میں اگر درد محسوس ہوتو ہینگ پانی اور تیل میں مکس کر کے ناف کے اردگرد لگائیں چند ہی منٹ میں انشاء اللہ اس کو آرام آجائے گا ۔یہ تو حکیموں اور طبیبوں کی باتیں ہیں جو ہوسکتا ہے بعض لوگ یکسر مسترد کردیں۔نیویارک سٹی سرجیکل ایسوسی ایٹ ڈاکٹر کرسٹوفر ہالنگ برگ کی تحقیق پڑھئے ۔

اگر کسی کو قبض کی شکایت ہو تو وہ اپنی انگلی کو ناف کے گرد آہستہ آہستہ پھیرے تو اسے ضروری محسوس ہوگا کہ اس کے اثرات مثانہ کی جانب جارہے ہیں اس جدید میڈیکل ریسرچ کے مطابق ہماری ناف کے نیچے ایک انتہائی حساس تہہ ایمبیلیکس ہوتی ہے جس کا تعلق براہ راست ریڑھ کی ہڈی سے ہوتا ہے جب ہم ناف کو چھوٹے ہیں تو حساس تہہ ایمبیلیکس میں عصبی سنگنلز پیداہوتے ہیں جو ریڑھ کی ہڈی تک جاتے ہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.