بے اولادحضرات صبح ننگے پیر ایک درخت کے ساتھ کھڑے ہو کر مختصر سا عمل کریں ! انشا اللہ گھر میں خوشی ضرور آئے گی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشر ف المخلو قات بنایا ۔ اسے عقل و شعور سے نوا زا ۔ نر اور ما دہ پیدا کیے اور پھر ان سے جو ڑے بنائے ۔ اس طر ح تخلیق کا عمل جا ری و ساری کیا ۔ عور ت کو ما ں جیسا عظیم رتبہ ملا اور یہ وہ رتبہ و رشتہ ہے، جس کی خوا ہش ہر عورت میں بدرجہ اتم موجو د ہو تی ہے۔ لیکن ہر خوا ہش کی تکمیل کے لیے کچھ نہ کچھ محنت ، قر با نی ضرور درکا ر ہو تی ہے ۔ سورئہ نجم کی آیت نمبر 39 میں ارشا دِ باری تعالیٰ ہے ( لَیسَ لِلاِنسَانِ اِلَّا مَاسَعٰی) ( ترجمہ : انسان کو وہی ملتا ہے ، جس کی وہ کوشش کر تا ہے)۔ انسان کا ایک پا ؤ ں تدبیر اٹھاتی ہے تو دوسرا تقدیر۔ قسمت میں تو گندمی مٹی ہے ، کو ئی اینٹ بنائے یا کوزا۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اسی لیے عطا کی ہے کہ ہم اسے بروئے کا ر لائیں ۔ یہ قانونِ فطر ت ہے کہ جس چیز کا استعمال بند کر دیا جائے ، وہ نا کا رہ ہو جاتی ہے ۔ شفا ف پانی بھی مستقل کہیں رکا رہے تو بد بو پیدا کر دیتا ہے ۔ کوئی بھی مشینری استعمال میں نہ لائی جائے تو زنگ آلو د ہو جا تی ہے۔ انسانی مشینری بھی متحرک رہنا چاہتی ہے ۔ کا ہلی انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔ قصہ مختصر اولا د کی خوا ہش مند خواتین خود کو مصروف رکھیں۔ غصے اور زیا دہ کھا نے سے پرہیز کریں ۔خدانخواستہ کوئی بیماری ہو جائے تو ڈاکٹر سے فوری رجو ع کریں ۔ ایک دوسرے کا خیا ل رکھیں ۔ بچو ں سے پیا ر کریں ، صدقہ خیرا ت کر تی رہیں ۔خو د کو ہمیشہ ما ں کے رو پ میں دیکھیں ۔ زیا دہ تر ایسے ما حول میں رہیں جہا ں بچے اور پودے وغیر ہ ہو ں ۔ عبادت اور صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔ اپنی غذا پر بھی خاص توجہ دیں کہ جو ہم کھا نا کھا تے ہیں ،

وہی ہمارے جسم کا حصہ بنتا ہے ۔ زیا دہ پکی اشیا نہ کھائیں ۔ مر غن غذاؤ ں سے پرہیز کریں ، اس سے زہریلا ما دہ پیدا ہو تا ہے ۔ ادھ پکی چیزیں کھا ئیں ۔ دودھ کے بجائے دہی زیا دہ مفید ہے ۔ کچی سبزیا ں کھا ئیں ۔ تلسی کے پتے ، اس کے بیج اور سونف کواستعمال میں لائیں ۔ ہر قسم کا سبزا، پھل ، پھو ل ، بیل بوٹے اور پھل دار درخت زیا دہ سے زیادہ دیکھیں ۔ یا درکھیے ، ہر شے اپنی الگ خاصیت رکھتی ہے۔ انسان ،حیوان ، چرند ، پرند ، درخت وغیرہ ۔ ہمیشہ اچھے دوست بنائیں ۔ خوبصورت پرندے پالیں۔ دودھ دینے والے جا نوروں سے محبت رکھیں ۔ اپنے گھر میں پھول اور پو دے لگائیں ۔ ہو سکے تو خوبصورت پھو لو ں کے گملے رکھ لیں اور انہیں پانی خود دیں ۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعاکریں کہ ” یا اللہ جس طر ح تو نے ان گملو ں میں پھول سجائے ہیں ، میرے گھر کے آنگن میں بھی پھو ل کھلا دے ۔ خوبصورت ، صحت مند ، فرمانبردار بچہ عطا فرما ۔ آپ یہ دعا ہر پھل دار اور درخت کو دیکھ کر بھی ما نگیں اور ” یا مصور “ کا وِرد جا ری رکھیں ۔ اللہ بے نیاز ہے ، وہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ کوئی بھی پھل دار درخت ، جس میں خوب پھل آتے ہوں ،

نما زِ فجر کے بعد ( جب سور ج کی کر نیں نکلنے لگیں) ننگے پا ؤ ں صاف ستھرے ہو کر ( اگر ٹھنڈک زیا دہ لگے تو چپل پہن لیں) اس کے نیچے جا ئیں ۔ تنے سے لگ کر اپنی پیشانی اس پر لگائیں پھر آنکھیں بند کر کے اللہ سے لو لگا تے ہوئے دعا کریں ۔” یا اللہ تو نے ہی اس درخت کو بار آور کیا ہے ، یہ تیری تخلیق ہے ۔ اس درخت جیسی طاقت مجھے بخش دے اور مجھے بھی بار آور کردے ، جیسے تو نے اس درخت کوکیا ہے ۔ یااللہ ! مجھے صحت مند فرما نبر دار بچہ عنا یت فرما۔ آمین ثم آمین ۔ ‘ ‘ جب آپ محسو س کریں کہ درخت سے تو انائی آپ کے اندر اتر رہی ہے تو درخت سے ہٹ جائیں ۔ اسے پیا ر سے تھپکائیں اور پانی دیں ۔ یا درکھیے ، پو دے ، درخت سب جان دار ہوتے ہیں اور ان سے با قاعدہ انرجی خارج ہو تی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر شے سے شعا عیں نکل رہی ہیں ، حتیٰ کہ ہماری انگلیو ں کی پوروں سے بھی ۔ اسی لیے پیا رے نبی ﷺ نے کھا نے کے بعد پو رو ں کو چاٹنے کا حکم دیا ہے ۔ اس سے کھا نا ہضم ہو تا ہے ۔ آپ یہ نسخہ آزما کر دیکھیں ، انشا ءاللہ ضرور بار آور ہو ں گی ۔ آپ کی دنیا بدل جائے گی ۔ ایک ننھا منا پیارا سا بچہ آپ کی گو د میں کلکاریاں ما رے گا تو آپ کی دھڑکنیں خود بخود پکا ر اٹھیں گی ۔یہ کس کو دیکھ کر ، دیکھا ہے ۔ میں نے بزمِ ہستی میں کہ جو شے ہے ، نگا ہو ں کو حسیں معلوم ہو تی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.