اس عورت نے سعودیہ میں وہ کام کردیا جس کے بارے میں کوئی لڑکی سوچ بھی نہیں سکتی تھی

تازہ خبر 92! ٹیوٹر پر سعودی عرب کی بنا برقعہ والی تصویریں وائرل ہورہی ہے۔ اس تصویر میں خواتین بنا عبایا کے نظر آرہی ہے۔ مشیل الجلود نامی یہ خاتون 33 سال کی ہے، جو عبایا چھوڑ ویسٹرن کپڑوں وائٹ پتلون اور آرینج جیکٹ میں مال کے باہر گھومتی نظر آئی۔ مال کے باہر موجود بھیڑ انکو گھورتے دیکھے۔ لیکن خاتون بنداس انداز میں وہاں سے گذری۔

صرف مشیل الجلود Mashael al-Jaloud ہی نہیں بلکہ 25 سال کی سماجی کارکن منحیل Manahel al-Otaibi بھی عبایا چھور ویسٹرن وائٹ ٹی۔شرٹ اور ڈینم ڈنگری میں سڑکوں پر گھومتی دیکھی۔

ابھی تک سعودی عرب یا خاص کر اسلامک ملک میں خواتین کالے رنگ کا روایتی عبایا یا برقعہ پہنی ہے۔ وہاں اس لباس کو خواتین کی پاکیزگی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اب سعودی پرنس محمد بن سلمان کے ایک انٹرویو کے بعد یہ بدلاؤ نظر آرہا ہے۔

دراصل سال 2018 میں شہزادہ محمد بن سلمان نے سی بی ایس کو دیئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈریس کوڈ میں چھوٹ دی جاسکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ پوشاک اسلام میں لازمی نہیں ہے۔ لیکن اسکے بعد بھی کئی باضابطہ قانون نہیں بننے کی وجہ سے یہ عمل برقرار ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہے جب سعودی عرب کی خواتین نے برقعہ کے خلاف اپنی آواز اٹھائی ہے۔ اس سے پہلے سوشل میڈیا پر سعودی عرب کی خواتین نے اس طرح کے پابندی کے خلاف عبایا بنا اپنی تصویر ڈالی ہے۔

لیکن بنا عبایا کے اس طرح سعودی عرب کی خواتین کا عوامی جگہ پر گھومنے کا معاملہ پہلی بار آیا ہے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.