عمران خان نے میری کرسی بھی لے لی اور ۔۔۔۔ شہباز شریف کی بچگانہ شکایات ۔۔۔ (ن) لیگی کارکن بھی سر پکڑ کر رہ گئے

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت میں جج سے نیب کی شکایت کی ہے کہ انہوں نے کمر درد کے لیے گھر سے خصوصی کرسی منگوائی تھی جو نیب نے واپس لے لی ہے ۔ احتساب عدالت نے شہبازشریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید سات روز کی توسیع کر دی

ہے تاہم احتساب عدالت میں شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ نیب ٹیم نے شہباز شریف کو احتساب عدالت پیش کردیا۔شہباز شریف نے کہا کہ میں فاضل جج صاحب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں مجھے اجازت دی جائے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر مجھے کھانا دینے کے حوالےسے قابل ستائش حکم دیا، آپ کے گزشتہ نوٹس پر میرے کھانے کا معاملہ حل ہوگیا، جج صاحب سب کو علم ہے مجھے کمر کا درد ہے، اس کے لیے جو خاص کرسی میں نے گھر سے منگوائی تھی وہ عمران خان اور شہزاد اکبر کے حکم پر نیب نے واپس لے لی ہے ۔شہباز شریف نے کہا کہ مجھے عام کرسی فراہم کی گئی ہے جس پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور کھانا کھاتا ہوں، اس کے باعث کمر درد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ایک شخص کو وہاں تکلیف دینا چاہتے ہیں جہاں اسے پہلے ہی تکلیف ہے، یہ کہاں کا اصول اور انصاف ہے، عدالت سے درخواست ہے کہ نیب والوں کو قانون کے مطابق حکم دیں، کمر درد کی وجہ سے مجھے تھراپی کروانے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے کہا کہ آپ باقاعدہ درخواست لکھ کر دیں تفصیلی حکم جاری کردیں گے۔ عدالت نے شہباز شریف کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرتے ہوئے کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔یاد رہے کہ لاہور کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں نیب حکام نے اپوزیشن لیڈر اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا۔عدالت نے شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی درخواست پر سماعت کی جس میں نیب حکام نے اپوزیشن لیڈر کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔نیب پراسیکیوٹر عثمان جی راشد اور عاصم ممتاز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دوران تفتیش شہباز شریف نے بیرون ملک پراپرٹی کا ریکارڈ تاحال نہیں دیا، بیرون ملک رقم دو ماہ قبل تک اکاؤنٹس سے بیرون ملک جا رہی تھی، شہباز شریف گزشتہ 6 ماہ کا ریکارڈ نیب کو فراہم کردیں لیکن وہ 6 ماہ کا ریکارڈ نیب کو فراہم نہیں کررہے۔دورانِ سماعت شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر اپنے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2005 میں، میں نے پہلی پراپرٹی باہر خریدی، میں کینسر کا علاج کرانے جاتا ہوں، میرا جینا مرنا پاکستان کے لیے ہے اس لیے 2004 میں پاکستان آیا تھا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.