اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں ۔۔۔۔ ! اگر ایسا ہے تو پھر نواز شریف کو بالکل ٹھیک فارغ کیا گیا کیونکہ ۔۔۔ نواز شریف کے انتہائی قریبی ساتھی نے ناقابل یقین پریس کانفرنس کر ڈالی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے باغی رکن پنجاب اسمبلی جلیل احمد شرقپوری لیگی قائد نواز شریف کے بیانیے سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔میاں جلیل احمد شرقپوری کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے وزیر اعظم سے ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا، گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے فلور پر جو ہوا افسوسناک ہے،

حلقے اور پاکستان کی عوام نے واقعے کو سخت ناپسند کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی تقریر پر میرا مؤقف آج بھی وہی ہے، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور عمران خان وزیراعظم ہیں، اُن سے ملنا کوئی غیر مناسب نہیں تھا۔رکن پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو سوچنا پڑے گا کہ سیاسی جماعت ہے یا غنڈوں کی جماعت، نوازشریف کی ملک کےلیے خدمت کی وجہ سے ان محبت کرتا ہوں، جہاز اغواء کا الزام لگا کرنواز شریف کی حکومت ختم کی گئی توبہت دکھ ہوا، مشکل دور میں تمام قریبی دوست جب ساتھ چھوڑ گئے تھے تب بھی میں ان کے ساتھ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میری سوچ تھی کہ مجھے اور میری فیملی کو الیکشن میں نہیں آنا چاہیے، میں پہلی مرتبہ میاں اظہر کے خلاف الیکشن میں کھڑا ہوا اور جیتا، سعودیہ سے نواز شریف نے فون کر مجھے حکم دیا تھا کہ آپ نے میاں اظہر کے خلاف ایکشن لڑنا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ن لیگ گزشتہ روز کے واقعے کے خلاف ایکشن لے، سیاست کو اکھاڑا نہیں بنانا چاہیے نہ ذاتی مفاد کےلیے استعمال کیا جائے۔میاں جلیل شرقپوری کا کہنا تھا کہ اپنے کردار سے مطمئن ہوں ، ن لیگ سے استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر بدمعاشی اور دھونس دھاندلی کے ساتھ استعفیٰ لینا ہے تو سمجھوں گا کہ نواز شریف سے بھی صحیح استعفیٰ لیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے مسلم لیگ (ن ) کے رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل شرقپوری کے سر پر لوٹا رکھ دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ دیگر باغی ارکان کو بھی ایوان سے نکال دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے ارکان صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی جنہیں بعد ازاں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا جب کہ ان ارکان میں مولانا غیاث الدین، فیصل نیازی، میاں جلیل شرقپوری بھی شامل تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.