اقتدار کے ایوانوں میں میاں نواز شریف سے متعلق کس فیصلے پر غور ہو رہا ہے ؟ اندر کی خبر آگئی

پشاور (ویب ڈیسک) وزیرِ محنت و ثقافت خیبر پختون خوا شوکت یوسف زئی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن سیاست سے باہر ہو چکے ہیں، ان کے اسمبلی میں نہ ہونے سے امن ہے، سب خوش ہیں۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ محنت و ثقافت خیبر پختون خوا شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ

عدالتوں کا احترام کرتا ہوں، کیس کا پہلے سے علم نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اسمبلی میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں، مولانا احتجاج شوق سے کریں، بس ان سے گزارش ہے کہ مدارس کے طلباء کو استعمال نہ کریں۔شوکت یوسف زئی نے کہا کہ جن کے پاس ایک سیٹ نہیں وہ حکومت گرانے کی سوچ رہے ہیں، احتجاجوں سے حکومت نہیں گرائی جا سکتی۔ان کا مزید کہنا ہے کہ میاں نواز شریف جب بھی واپس آئے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔وزیرِ محنت خیبر پختون خوا کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نواز شریف سے متعلق لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہا ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر کلبھوشن یادیو سے متعلق عدالتی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ بھارت اور کلبھوشن وکیل نہیں کرتے تو کیس کیسے آگے بڑھائیں؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق قانونی نکات پر معاونت طلب کرلی۔سماعت سے قبل 2 سینئر وکلا مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی۔ عابد حسن منٹو نے خراب صحت جب کہ مخدوم علی خان نے پروفیشنل وجوہات کی بنیاد پر پیش ہونے سے معذرت کرلی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کیلئے وزارت قانون کی درخواست پر سماعت کی۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.