یہ عمران حکومت کو گرائیں گے؟ PDM بنتے ہی (ن) لیگ کے رہنماؤں نے کیا کام شروع کر دیا؟ اپوزیشن اتحا د میں دراڑ کی خبریں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان عہدوں کی جنگ چھڑ گئی۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی مخالفت کے لیے متحدہ ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پی ڈی ایم میں عہدے حاصل کرنے کے لیے باگ دوڑ شروع کردی۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم

میں مسلم لیگ ن اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی خواہش مند ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے عہدیداروں کی باری باری تبدیلی کی تجویز دی ہے۔یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور پی ڈی ایم کے منتخب ہونے والے سیکریٹری جنرل نےکہا تھا کہ ’عہدوں پر تعینات مستقبل بنیادوں پر کی جائے گی‘۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ عہدیداروں کی تعیناتی مستقل نہیں عاضی بنیادوں پر کی جائے اور وقت کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی عہدوں پر منتخب کیا جائے۔یاد رہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی صدارت کے لیے مولانا فضل الرحمان کا انتخاب کیا گیا ہے جبکہ شاہد خاقان عباسی کو سیکریٹری جنرل، راجہ پرویز اشرف کو سینئر نائب صدر منتخب کیا گیاہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کو پی ڈی ایم کا سیکریٹری اطلاعات جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو اسٹیئرنگ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد 31 دسمبر سے زیادہ نہیں چلے گا، پیپلزپارٹی اپوزیشن کے ساتھ زیادہ دیر نہیں چلے گی، بدررشید بھی تحریک انصاف کا رکن ہو، میرظفراللہ جمالی کی پرویز مشرف کو کوئی شکایت نہیں لگائی، مریم نواز کا احترام کرتا ہوں۔انہوں نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غداری کا مقدمہ بدررشید نے درج کروایا، عمران خان کا کوئی تعلق نہیں ہے، تحریک انصاف کے ایک کروڑ 70 لاکھ کارکن ہیں۔ہوسکتا ہے کہ بدررشید بھی تحریک انصاف کا رکن ہو۔راولپنڈی کے تمام پراجیکٹ مکمل ہوں گے اور ایک لاکھ لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔اسی ہفتے اسی مہینے نالہ لئی اور ایم ایل ون پراجیکٹ کا کام بھی چل پڑے گا۔شیخ رشید نے کہا کہ میر ظفراللہ جمالی کی میں نے شکایت نہیں لگائی ،میں نے کسی کی شکایت نہیں لگائی، جب میں وہاں موجود تھا، تو مجھے صدر مشرف کا فون آیا تھا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں گے۔میں نے کابینہ اجلاس میں نواز شریف کو واپس لانے کیلئے ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا احترام کرتا ہوں، جب تک وہ میرے بارے میں کچھ نہیں کہتی، میں بھی ان کے بارے کوئی بات نہیں کروں گا۔ اپوزیشن کا اتحاد 31دسمبر سے زیادہ نہیں چلے گا۔31 دسمبر سے فروری کے درمیان ش لیگ بن جائے گی۔میں نے ش لیگ شہبازشریف کے بارے میں نہیں کہا۔ شہبازشریف عقل مند آدمی ہیں، جو خود سیلف پروٹیکشن میں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن میں بھی زیادہ دیر نہیں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جلسوں کا بھرپور جواب دو ں گا۔ جس دن اپوزیشن کا جلسہ ہوگا اگلے روز میں جلسہ کرکے جواب دوں گا۔ڈر ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں سے کورونا پھیل جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.