مشکل وقت میں ایک اور بڑا فیصلہ! پاکستان اب روس سے کیا چیز درآمد کرے گا؟

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) حکومت روس سے ایک لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے، روس سے گندم گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کی سطح پر درآمد کی جائے گی، درآمد شدہ گندم پر ڈیوٹیز اور ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ

کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں گندم کی درآمد کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں روس سے ایک لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ روس سے گندم حکومت سے حکومت کی سطح پر درآمد کی جائے گی۔روس سے درآمد کی جانے والی گندم پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ 4 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم نجی شعبے کے ذریعے پہلے ہی درآمد کی جاچکی ہے۔جبکہ اس وقت ملک میں 50 لاکھ ٹن گندم سرکاری ذخائر میں موجود ہے۔دسمبر 2020ء کے آخر تک مزید 1.1 میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی توقع ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ فیڈ ملز کو گندم دینے کی وجہ سے مارکیٹ میں شارٹ فال سامنے آیا۔ عاصم رضا نے کہا کہ ہم نے جی آئی ٹی کو بتایا کہ فیڈ ملز کو گندم دی گئی، ملک میں 2 کروڑ 80 لاکھ ٹن گندم موجود ہونے کے باعث گندم کی قلت ہوئی ، بلوچستان کو گندم دی ہی نہیں گئی یہ تمام چیزیں حکومت کی نا اہلی کے باعث ہوئیں۔گندم کی ٹرانسپورٹیشن وقت پر نہیں ہوئی۔ پنجاب حکومت اور بیوروکریٹس نے گندم خریداری کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا ۔ پنجاب حکومت نے 45 لاکھ ٹن گندم خرید کر بڑے نعرے لگائیں۔ گندم کا جو ریٹ دسمبر میں ہونا تھا جون میں ہو گا۔اس سال حکومت کے پاس ڈھائی لاکھ ٹن پنجاب حکومت کے پاس کیری فارورڈ تھی۔ جے آئی ٹی کے ممبرز کو اس سارے معاملے کا پہلے تجربہ تھا۔ کیا جے آئی ٹی کے بندوں کی رپورٹ مصدقہ ہوگی جو مستقبل کے بارے میں بتا سکیں۔ ملک کی ساری پالیسی اس وقت جے آئی ٹی کی رپورٹ پر چل رہی ہے۔ حکومت جے آئی ٹی کی رپورٹ کو چھوڑ دیں اور زمینی حقائق کو دیکھے۔ کھوتا ریڑھی پر جانے والی گندم کو بھی حکومت نے پکڑ لیا، اس وقت ملک میں 30 لاکھ ٹن گندم کی قلت ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.